موت کسی جاندار کی زندگی کا مستقل خاتمہ، موت کہلاتا ہے۔ تمام عمر انسان (اور تمام جانداروں) کے خلیات کے اندر ایسے کیمیائی تعملات جاری رہتے ہیں کہ جو آہستہ آہستہ موت کا سبب بن جاتے ہیں۔ اور اب تو طبیب اور سائنسداں یہاں تک جان چکے ہیں کہ زندگی کے لئے سب سے اہم ترین کیمیائی سالمے یعنی DNA میں موت کے لئے ایک طرح کی منصوبہ بندی پہلے سے ہی شامل کی جاچکی ہے جو کہ ایک گھڑی کی طرح موت کے لمحات گنتی رہتی ہے۔

اقوال

ترمیم
  • اگر لوگ موت کوعقل سے اس کی واقعی شکل کے ساتھ تصور کرتے تو دنیا ویران ہو جاتی۔ (حسین بن علی)
  • کیونکہ وہ بادشاہ کے طور پر اُس وقت تک حکمرانی کرے گا جب تک خدا تمام دُشمنوں کو اُس کے پاؤں تلے نہ کر دے اور آخری دُشمن یعنی موت کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔‏ (بائبل) 1-‏کُرنتھیوں 15:25, 26‏
  • اِس کے ساتھ ہی مَیں نے تخت سے ایک اُونچی آواز سنی جس نے کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ خدا کا خیمہ اِنسانوں کے درمیان ہے۔‏ وہ اُن کے ساتھ رہے گا اور وہ اُس کے بندے ہوں گے۔‏ اور خدا خود اُن کے ساتھ ہوگا۔‏ اور وہ اُن کے سارے آنسو پونچھ دے گا اور نہ موت رہے گی،‏ نہ ماتم،‏ نہ رونا،‏ نہ درد۔‏ جو کچھ پہلے ہوتا تھا،‏ وہ سب ختم ہو گیا۔‏“‏ اور جو تخت پر بیٹھا تھا،‏ اُس نے کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ مَیں سب کچھ نیا بنا رہا ہوں۔‏“‏ اُس نے یہ بھی کہا:‏ ‏”‏اِن باتوں کو لکھ لیں کیونکہ یہ قابلِ‌بھروسا اور سچی ہیں۔‏“ (بائبل) مکاشفہ 21:3-5

اشعار

ترمیم
زندگی کیا ہے، عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے، انہی اجزاء کا پریشاں ہونا (چکبست لکھنوی)
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں موت.