میں کسی ایسے شخص سے واقف نہیں ہوں کہ جس کی تلوار ٹوٹ گئی ہو اور وہ پھر زِندہ باقی رہا ہو۔ کیونکہ مرد کے پاس ہتھیار نہ ہوں تو وہ عورت کی طرح رہتا ہے۔

عبداللہ ابن زبیر (پیدائش: اپریل 624ء — وفات: یکم اکتوبر 692ء) سنہ 64ھ سے 73ھ (مطابق 683ء تا 692ء) مسلم دنیاء کے خلیفہ کی حیثیت سے حکمران رہے۔ وہ صحابی رسول جناب زبیر ابن عوام اور اسماء بنت ابی بکر کے فرزند تھے۔ اُنہیں صغار صحابہ کرام میں شمار کیا جاتا ہے۔ عبدالملک بن مروان کے ابتدائی زمانہ حکومت تک وہ مکہ مکرمہ میں مقیم رہے اور وہیں سنہ 73ھ مطابق 692ء میں حجاج بن یوسف سے برسرپیکار ہوئے اور شہید ہوئے۔

اقتباساتترميم

آخری خطبہترميم

  • اے آل زبیر! اگر تم نے میرے ساتھ خیر خواہی کی ہوتی تو عرب میں ہمارا خاندان وہ ہوتا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنی جانیں قربان کی ہوتیں اور کبھی ہم پر یہ مصیبت نازل نہ ہوتی۔ اے آل زبیر! تم ہرگز تلواروں کے لڑنے سے خائف نہ ہونا، کیونکہ مجھے اِس کا تجربہ ہے۔ کوئی ایسی جنگ نہیں ہوئی جس میں مَیں زخمی نہ ہوا ہوں۔ اور میں جانتا ہوں کہ زخم کے علاج کرنے کی تکلیف تلوار کے لگنے سے زیادہ سخت ہے، جس طرح تم اپنے چہروں کو بچاتے ہو، اُسی طرح تلواروں کو بھی بچانا کیونکہ میں کسی ایسے شخص سے واقف نہیں ہوں کہ جس کی تلوار ٹوٹ گئی ہو اور وہ پھر زِندہ باقی رہا ہو۔ کیونکہ مرد کے پاس ہتھیار نہ ہوں تو وہ عورت کی طرح رہتا ہے۔ جب بجلی چمکے تو اپنی آنکھیں بند کرلینا یا تلواروں سے اپنی آنکھیں بچانا۔ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ صرف اپنے مقابل کا دھیان رکھے۔ میرے متعلق سوال تمہاری اپنی توجہ کو نہ ہٹائے۔ اور یہ ہرگز نہ کہنا کہ میں کہاں ہوں؟۔ البتہ جو شخص دریافت کرے، اُسے بتا دینا۔ میں سواروں کے سب سے اَول دستے میں کھڑا ہوں گا۔

مزید دیکھیںترميم

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں عبد اللہ ابن زبیر.