"کیمیائے سعادت" کے نسخوں کے درمیان فرق

23 بائٹ کا اضافہ ، 8 مہینے پہلے
م
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م
 
'''کیمیائے سعادت''' [[امام غزالی]] کی شاہکار تصنیف ہے جو بارہویں صدی عیسوی کے اوائل عشروں میں لکھی گئی تھی۔
==اقتباسات==
*گزشتہ انبیاء کی کتب میں مذکور تھا کہ اُن سے اللہ تعالیٰ نے یوں ارشاد فرمایا: ’’جس نے اپنے [[نفس]] کو پہچان لیا، اُس نے اپنے [[رب]] کو پہچان لیا۔‘‘ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کا دِل آئینے کی طرح ہے۔ جو کوئی اِس میں غور کرے گا، خدا کو دیکھے گا، اور بہت سے [[انسان|لوگ]] اپنے میں غور کرتے ہیں مگر خدا کو نہیں پہچانتے۔ تو جس [[اعتبار]] سے دِل کی معرفت کا آئینہ ہے، اُس لحاظ سے دِل کو جاننا ضروری ہے۔
**باب اول: معرفت الٰہی، صفحہ 59۔