انور سجاد

افسانہ نگار، ناول نگار، ڈراما نویس

ڈاکٹر انور سجاد (پیدائش: 27 مئی، 1935ء) پاکستان کے مشہور اردو افسانہ نگار، ناول نگار، اداکار اور ڈراما نویس تھے جو اپنے افسانوں میں علامت نگاری کی وجہ سے مشہور و معروف تھے

ا‍قتباساتترميم

  • ہاں تو بچہ جمورا، بول، شاباش۔ پیٹ کیا مانگتا ہے؟ تخت نہیں مانگتا، تاج نہیں مانگتا، تو پھر بول کیا مانگتا ہے؟ ہَیں ؟ روٹی ؟ او تیرے پہ خدا کی مار۔ یہ لفظ واپس لے۔ نہیں تو کافر ہو جائیگا، غدار ہو جائیگا، سنگسار ہو جائیگا۔ صاحبان، مہربان! جمورے کو معاف کردیں۔ بچہ ہے بڑا ہو جائیگا تو سمجھ جائیگا کہ روٹی کا لفظ زبان پر نہیں لانا چاہئیے بلکہ پیٹ میں ہونا چاہئیے۔
  • انسان کا خون کتنا بے وقعت ہے کہ اس کے عوض کوئی بینک گارنٹی نہیں دیتا
  • نئے انسان کی تخلیق کیلئے جدوجہد ہی زندگی کا جواز ہے۔ فرد کی حتمی آزادی کیلئے میرے واسطے زندگی اور موت ایک دوسرے کا نعم البدل بن گئے ہیں
  • یہ جذبات سے عاری خود ساختہ مدبروں کا قول ہے کہ جذبات کو قابو میں رکھنا چاہئیے۔ کیونکہ وہ خود اس دولت سے محروم ہوتے ہیں
  • گٹر کے گول تاریک کنارے ایک طرف نیلا پڑتا مرد قے کرتا نظر آتا ہے۔ جسے ایک بڑھیا ماتھے سے تھامے ہے۔ اس مرد کی آنکھیں پَھٹی پَھٹی ہیں نہ دیکھنے والی۔ جیسے میری بیٹی کے گُڈے کی
  • ان کی بھوک کبھی نہ مٹنے والی ہوتی ہے۔ ان کا طریقہ واردات بدلتا رہتا ہے۔ کبھی پیار کبھی غصہ، کبھی دھونس دھاندلی، اور کبھی دوستی کبھی جنگ۔ اس ہاتھ سے آپ کو دیتے ہیں۔ تو دوسرے ہاتھ سے اصل زر بمعہ سود در سود وصول کر لیتے ہیں
  • وہ اپنے پھیپھڑوں کی قوت سے ہیر گاتا ہے۔اس کی آواز سناٹے کو چیر کر مجھ تک پہنچتی ہے جیسے دریا کے مخالف بہاؤ میں مچھلی۔ اسے جیل میں کوٹھی لگے چند دن ہوئے ہیں اور یہ تاریخ کا پہلا قیدی ہے جسے کچھ دن بعد سرعام پھانسی دی جانی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انصاف اندھا ہوتا ہے یا نہیں مگر بھینگا ضرور ہوتا ہے
  • کہو جب تم ریستوران کھانا کھانے جاتے ہو۔ اور بَیرا تمہارے سامنے مینو لا کے رکھتا ہے تو تم اس کے حوالے سے کھانا منگواتے ہو یا مینو کے محض لفظ ہی کھا جاتے ہو؟ تو پھر مجہے کیوں مجبور کرتے ہو کہ مَیں آسمانی صحیفوں اور زمینی کتابوں کے لفظ ہی کھاؤں؟