نظام الدین اولیاء

امیر خسرو کی روحانی رہنما ، ایک مشہور ہندوستانی صوفی سنتوں میں سے ایک ہے

نظام الدین اولیاء (پیدائش: 9 اکتوبر 1238ء — وفات: 3 اپریل 1325ء) ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ کے جلیل القدر بزرگ اور صوفی تھے۔

اقوالترميم

  • برا کہنا برا ہے مگر برا چاہنا اِس سے بدتر ہے۔
  • جس کی طبع لطیف ہو، وہ جلد ہی برہم ہوجاتا ہے۔
  • اگر کسی نے تیری اِیذاء کے لیے کانٹے بکھیرے ہیں تو تُو اُنہیں راستے سے ہٹا دے۔ اگر تو بھی اُس کے جواب میں راہ میں کانٹے ہی رکھے گا تو پھر ساری دنیا میں کانٹے ہی کانٹے ہوجائیں گے۔
  • جس قدر غم و اندوہ مجھے رہتا ہے، اِس جہان میں کسی کو نہ ہوگا۔ میرے پاس اِتنی مخلوق آتی ہے۔ ہر شخص اپنا دُکھڑا سناتا ہے، اُس کا بوجھ میری جان و دِل پر پڑتا ہے۔ وہ عجب دِل ہے کہ مسلمان بھائی کا غم سنے اور اُس پر اُس کا اثر نہ ہو۔

مزید پڑھیںترميم

  • رائے محمد کمال: اقوالِ زریں کا انسائیکلوپیڈیا ۔ مطبوعہ لاہور
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں نظام الدین اولیاء.