معین الدین چشتی

سلسلہ چشتیہ کے ممتاز صوفی بزرگ

اقوالترميم

  • مصیبت اور سختی کاآنا صحت اور ایمان کی علامت ہے۔
  • عقلمند دنیا کا دشمن اور اللہ کا دوست ہے۔
  • بد ترین شخص وہ ہے جو توبہ کی امید پر گناہ کرے۔
  • وہ ضعیف ترین ہے جو اپنی بات پر قائم رہے۔
  • کائنات میں صرف ایک چیز نور خدا موجود ہے اور تمام غیر موجود۔
  • دشمن کو دل کی مہربانی اور احسان سے اور دوست کو نیک سلوک سے جیت لو۔
  • عارفین کا توکل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی غیر سے مدد نہ چاہیں اور کسی کی طرف متوجہ نہ ہوں۔
  • بھوکے کو کھانا کھلانا ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنا اور دشمن کے ساتھ نیک سلوک کرنا نفس کی زینت ہے۔

مزید دیکھیںترميم

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں معین الدین چشتی.