محمد طاہر القادری

پاکستانی سیاست دان، مصنف اور مذہبی رہنما

ڈاکٹر محمد طاہر القادری 19 فروری 1951ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔ آپ تحریک منہاج القرآن کے بانی رہنما ہیں، جو 1980ء سے قرآن و سنت کے افکار کے ذریعے فروغ علم و شعور، اصلاح احوال مسلم امت اور ترویج و اقامت دین کیلئے مصروف عمل ہے۔[1]

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

اصلاح معاشرہ

ترمیم
  • ہدایت کا آغاز شعورِ مقصدیت سے ہوتا ہے۔ Consciousness is the beginning of the guidance
  • شعور کی بیداری حق اور باطل کی پہچان سے عبارت ہے۔ Body awareness is the knowledge of truth and falsehood
  • معاشرے کے تباہ شدہ نظام کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنا عظیم ترین جہاد ہے۔ Society to struggle for the restoration of damaged systems is the greatest jihad
  • نصب العین کے تعین کے بغیر ہدایت اور رہنمائی کا کوئی مفہوم باقی نہیں رہتا۔
  • حقیقی زندگی دراصل نصب العین کے شعور اور اس کے حصول کی جدوجہد سے عبارت ہے۔
  • اصل نصب العین اور مقصد وہ ہوتا ہے جو کسی بھی حالت میں نظر انداز نہ ہونے پائے۔
  • اگر کامیابی کی امید باقی نہ رہے تو شکست خوردگی اور مایوسی کا آغاز ہو جاتا ہے۔
  • افراد کا اپنے اندر انفرادی ذمہ داری کا احساس اجاگر کر لینا کامیابی و کامرانی کی خشت اول ہے۔
  • شخصیت کے توازن کا تقاضا یہی ہے کہ شعور اور لا شعور کے تقاضوں کا تصادم ختم ہو۔
  • ایک دوسرے کے لئے ہمدردی اور خیرخواہی کے جذبے سے عاری معاشرہ اسلامی نہیں کہلا سکتا۔
  • نمونہ کمال اس طرز عمل کو قرار دیا جا سکتا ہے جو قابل تقلید ہو۔
  • اجتماعی بودوباش کے تمام مظاہر میں فضول خرچی قومی زوال کا باعث ہے۔
  • مسلمانوں کی اکثریت کو گمراہ اور بےعقل تصور کرنا، خود بےعقلی اور گمراہی ہے۔
  • انسانی شخصیت کا حسن و جمال رحمت اور عدالت دونوں کے حسین امتزاج کا باعث ہے۔

مذہب

ترمیم
  • اسلام محض توجیہ کا نہیں، تخلیق کا نام ہے۔
  • توحید ایمان کا جسم اور رسالت اس کا حسن ہے۔
  • تزکیہ نفس اخلاص فی العمل کا نام ہے۔
  • حالت ِاعتدال سے انحراف کا نام بدعقیدگی ہے۔
  • اسلام محکومی و ذلت کی زندگی کو گوارہ نہیں کرتا۔
  • حرص و ہوا کفر و شرک کی علامتوں میں سے ہیں۔
  • فرض عبادت کے بعد بہترین وظیفہ درود و سلام ہے۔
  • نعت پڑھنا اور سننا حسن ایمان ہے۔
  • صلوٰۃ و سلام کا انکار نص قرآنی کا انکارہے، اور بالاجماع کفر ہے۔
  • علم نبوت کی شان ہی یہ ہے کہ وہ علم و فکر کا جامع ہوتا ہے۔
  • عمل انفاق نہ صرف تزکیہ مال بلکہ تزکیہ نفس کا بھی باعث ہے۔
  • شریعت، طریقت اور معرفت ایک ہی حقیقت کے تین نام ہیں۔
  • اسلام کسی سطح پر بھی حق و باطل کے درمیان سمجھوتے کا روادار نہیں۔
  • انسان کی انفرادی زندگی کا نصب العین اور مقصد رضائے الہٰی کا حصول ہے۔
  • سواداعظم کسی خاص فرقے کی نہیں، بلکہ امت مسلمہ کی نمائندگی کا نام ہے۔
  • مذہبی فضائل کا حصول لوگوں کو معاشی تعطل سے نجات دلائے بغیر ممکن نہیں۔
  • ایمان ایک ایسی باطنی اور اعتقادی کیفیت کا نام ہے، جہاں پہنچ کر ہر قسم کا تردد اور شک رفع ہو جاتا ہے۔
  • ایمان کے تن مردہ میں جان صرف اور صرف محبت الہٰی اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہی پیدا کی جا سکتی ہے۔
  • انسانیت جس زمانے میں بھی ہوگی، معیارِ کمال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہوں گے۔
  • صلحائے امت کی راہ اور تعلیمات کو تعلیماتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا سمجھنا، کھلی جہالت اور گمراہ ہے۔
  • تصورِ رسالت کے بغیر انسان اپنی زندگی کو صحیح سمت پر نہیں ڈال سکتا۔
  • قرآن نے انسانی بہبود کا وہ ضابطہ مہیا کیا ہےکہ اشتراکیت سمیت دنیا کا کوئی نظام معیشت اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔
  • اسلام انسانی معاشرے کے اندر مختلف قبیلوں کے وجود کو وحدتِ نسلِ انسانی کے تصور کے منافی قرار نہیں دیتا۔
  • قرآن و حدیث اور احکامِ شریعہ کے باب میں آزاد رائے دہی حرام ہے۔
  • مسائل و مصائب میں جلتی نسل آدم کو محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن رحمت میں ہی پناہ مل سکتی ہے۔
  • اسلام کے اجتماعی مقاصد کا حصول زندگی کے تمام تقاضوں کی صحیح تکمیل کے بغیر ناممکن ہے۔
  • اگر دنیا کو امن و عافیت کی تلاش ہے تو اسے دہلیز مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھکنا ہوگا۔
  • بارگاہِ رسالت میں صدقہ و خیرات کی کثرت اور اظہار مسرت کے جلوس محبت اور خلوص کے بغیر قبولیت نہیں پاتے۔
  • عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جذبہ ہی ہماری حیات کی بقا کا ضامن ہے۔
  • حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر قول و فعل اسلام اور اس کی مخالفت کفر ہے۔
  • قرآن مجید نے اس دنیا میں اہل حق کی کامیابی کو اُخروی کامیابی کی دلیل قرار دیا ہے۔
  • اللہ اور رسول (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان عبدیت کا فرق مٹانے والا کافر ہے۔
  • حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اداؤں سے محبت کرنا تقویٰ کا اعلیٰ ترین معیار ہے۔
  • اسلام تمام محدود تصورات کو رد کر کے صرف فکری و نظریاتی وحدت کے تصور پر یقین رکھتا ہے۔
  • کائنات کو وجود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسط سے ملا، دنیا و مافیہا اور آخرت کی جملہ نعمتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درِاقدس کی خیرات ہیں۔
  • نعمتوں کے حصول پر اللہ کے حضور شکر ادا کرنا واجب، جبکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد پر شکر ادا کرنا بدرجہ اولیٰ واجب ہے۔

اتحاد امت

ترمیم
  • مسلمان ہونے کی نسبت آسمانی پر امت مسلمہ کو اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔
  • مشترک عقائد مسالک کے مابین یکجہتی، بھائی چارے اور امت واحدہ کی بنیاد ہیں۔
  • مسلمانو! بے شک اپنے اپنے عقیدے پر چلو، مگر یاد رکھو تم پہلے مسلمان ہو اور بعد میں سنی، شیعہ اور اہل حدیث ہو۔
  • فساد اور خون ریزی کی آگ کو باہمی محبت کے ذریعے بروقت ختم نہ کیا گیا تو نئی نسل دین سے باغی ہوجائے گی۔
  • فرقہ وارانہ سرگرمیوں کے ذریعے امت ِمسلمہ کے شیرازۂ اتحاد کو پارہ پارہ کرنا بلاشک و شبہ فساد فی الارض ہے۔
  • مسلمانوں کا مختلف مسالک اور مکاتبِ فکر سے وابستہ ہونا اور مسلکی تشخصات برقرار رکھنا ہرگز فرقہ واریت نہیں کہلا سکتا۔
  • مسلمانو! بےشک اپنے مسلکی تشخصات کو قائم رکھو، مگر باہمی تعصبات کی دیوار کو گرادو، ورنہ تمہارا اسلامی تشخص مٹ جائے گا۔
  • مسلمانو! ایک دوسرے سے مل بیٹھنا سیکھو، اسی سے بہت ساری غلط فہمیاں دور ہوں گی، انتہاپسندانہ رجحانات کم اور ختم ہوں گے۔
  • اسلام دشمن سامراج مسلکی اختلافات کو ہوا دےکر منتشر، کمزور اور محکوم رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ تمہاری تقدیر سے کھیلتا رہے۔
  • دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے غیرمبہم قانون سازی ناگزیر عمل ہے۔
  • جہاد کے نام پر دہشت گردی کا بازار گرم کرنے والے گروہ مسلمان تو کجا انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں۔
  • دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ہماری اپنی جنگ قرار دیئے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔
  • غربت، معاشی ناہمواری، بے روزگاری اور ظلم و استحصال کا خاتمہ کئے بغیر انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔
  • دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں یتیم ہوجانے والے بچوں کی کفالت اور ان کی تعلیم و تربیت ریاست کی ذمہ داری ہے۔
  • دہشت گردی کے خاتمے کیلئے نفرتوں اور انتہاپسندی کو تقویت دینے والے لٹریچر پر پابندی ضروری ہے۔
  • دہشت گردی کے خاتمے کیلئے خاطرخواہ بجٹ مخصوص کئے بغیر قوم کو امن کی نعمت سے آسودہ حال نہیں کیا جا سکتا۔
  • اس ملک کو دہشت گردی سے نجات کیسے مل سکتی ہے جہاں انتہاپسند کالعدم جماعتوں پر نام بدل کر کام کرنے پرکوئی روک ٹوک نہ ہو؟
  • دہشت گردی کا بےباکانہ سدباب تبھی ممکن ہے جب متعلقہ خصوصی عدالتیں، ادارے اور ایجنسیاں براہ راست فوج کے ماتحت ہوں۔
  • نوجوانوں کو دہشت گردوں کا آلہ کار بننے سے بچانے کیلئے اسلام کی تعلیمات امن کو فروغ دینے کیلئے بڑے پیمانے پر ’پیس ایجوکیشن سنٹرز‘ کا قیام ضروری ہے۔
  • دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے دینی مدارس، جماعتوں، تنظیموں اور شخصیات کو ملنے والی بیرونی فنڈنگ کو بند کرنا ضروری ہے۔
  • دینی مدارس پر دہشت گردی کی نرسریاں ہونے کے تاثر کو زائل کرنے کیلئے نظام اور نصاب میں اصلاحات اور یکسانی ضروری ہے۔
  • فرقہ واریت اور انتہاپسندی کو فروغ دینے والوں کو کڑی سزائیں دیئے بغیر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا ممکن نہیں۔
  • دہشتگردوں کے نام، شناخت، مذہبی و علاقائی پس منظر کو بےنقاب کرنے سے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیاب ہوسکتی ہے۔

سیاست

ترمیم
  • حاکم اور محکوم خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قانون کے یکساں تابع ہوتے ہیں۔
  • محکوم طبقہ صرف اسی وقت تک حکمران کے احکام کی تعمیل کا پابند ہے جب تک وہ خدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تابع رہیں۔
  • مفادپرست حکمرانوں سے اتحادِ امت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
  • حق اسے کہتے ہیں جو خود بخود نہ ملنے کی صورت میں چھین کر بھی لیا جا سکے۔
  • فرض اور حق دونوں مترادف حقیقتیں ہیں، ایک کا فرض دوسرے کا حق ہوتا ہے۔
  • مطالبے کی صورت اس وقت پیش آتی ہے جب کسی کا حق از خود ادا نہ ہو رہا ہو۔
  • جب فرض ادا کیے بغیر حق کا مطالبہ ہونے لگے تو معاشرہ روبہ زوال ہو جاتا ہے۔
  • کسی بھی غریب و خستہ حال شخص کی عزت غربت کی وجہ سے پامال نہیں ہونی چاہیے۔
  • آج پاکستانی قوم کی حالت وہی ہے جو بنی اسرائیل کی تھی، فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرتا تھا اور قوم اس کے خلاف نہیں اٹھتی تھی۔
  • حکام بالا کی اصلاح سے ماتحت عملہ کافی حد تک اصلاح پذیر ہو جاتا ہے۔

انقلاب

ترمیم
  • انقلاب سماجی اور معاشرتی سطح پر مکمل تبدیلی کا نام ہے۔
  • سماجی، معاشرتی اور اخلاقی انقلاب ’سیاسی انقلاب‘ کا نتیجہ ہوتے ہیں، اس لیے سیاسی انقلاب ان سب پر مقدم ہے۔
  • حق کسی شخصیت کے اندر کلی اور ہمہ گیر انقلاب کا نام ہے، جزوی تبدیلی کا نہیں۔
  • مسلمانو! اتحاد تمہاری قوت، انقلاب تمہارا سفر اور فتح تمہاری منزل ہے۔

خواتین

ترمیم
  • پردہ عورت کی تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما پر قدغن نہیں لگاتا۔
  • نئی نسل کو دین اسلام کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے خواتین کو ہر قدم پر عملی قربانیوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
  • امہات المومنین رضی اللہ عنھن کی سیرت روشن خیال خواتین کیلئے مینارۂ نور کی حیثیت رکھتی ہے۔
  • اسلام کی بیٹیاں اگر امہات المومنین کے کردار کو اپنالیں تو دنیا کی کوئی طاقت اسلامی انقلاب کو نہیں روک سکتی۔
  • یہ تصور غلط ہے کہ اعلائے کلمہ حق کے لیے صرف مرد ہی کارگر ہو سکتے ہیں۔

سائنس

ترمیم
  • وقت اپنے وجود پر خود دلیل ہے۔
  • علم بغیر نظم کے علم نہیں ادراک رہتا ہے۔
  • سائنسی تحقیق کا زاویہ اور دائرہ کار عقائد کے فکر و زاویہ سے قطعاً مختلف ہے۔[2]
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں محمد طاہر القادری.


حوالہ جات

ترمیم