w:فیض احمد فیض (پیدائش: 13 فروری 1911ء – وفات: 20 نومبر 1984ء) اُردو زبان کے نامور شہرت یافتہ شاعر، مارکس ازم کے حامی، اور ادیب تھے۔ اُنہیں پاکستان کے مشہور شعراء میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ بھارت میں بھی اُن کی مقبولیت یکساں شمار کی جاتی ہے۔

شعرترميم

نظمترميم

  • مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
    میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
    تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
    تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
    تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
    تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
    یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
    ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
    ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے
    جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
    خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
    جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے
    پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے
    لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے
    اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے
    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
    مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
    • نسخہ ہائے وفا، صفحہ 61۔

غزلترميم

  • کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیں
    صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں
    مشکل ہیں اگر حالات وہاں دل بیچ آئیں جاں دے آئیں
    دل والو کوچۂ جاناں میں کیا ایسے بھی حالات نہیں
    جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
    یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
    میدان وفا دربار نہیں یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں
    عاشق تو کسی کا نام نہیں کچھ عشق کسی کی ذات نہیں
    گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
    گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں ۔
    • نسخہ ہائے وفا، صفحہ 259۔

غزلترميم

  • گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
    چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
    قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو
    کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے
    کبھی تو صبح ترے کنج لب سے ہو آغاز
    کبھی تو شب سر کاکل سے مشکبار چلے
    بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
    تمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے
    جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں
    ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
    حضور یار ہوئی دفتر جنوں کی طلب
    گرہ میں لے کے گریباں کا تار تار چلے
    مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
    جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے۔
    • نسخہ ہائے وفا، صفحہ 264۔ منٹگمری جیل (ساہیوال) میں 29 جنوری 1954ء کو لکھی گئی۔

اشعارترميم

  • دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
    لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔
    • 9 مارچ 1954ء کو منٹگمری جیل (ساہیوال) میں کہی گئی غزل کا ایک شعر، اقتباس از: نسخہ ہائے وفا، صفحہ 260۔
  • تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
    کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں۔
    • نسخہ ہائے وفا، صفحہ 133۔
  • آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
    اس کے بعد آئے جو عذاب آئے۔
    • نسخہ ہائے وفا، صفحہ 173۔
  • رات یوں دِل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
    جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے
    جیسے صحراؤں میں ہَولے سے چلے بادِ نسیم
    جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے۔

مزید دیکھیںترميم

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں فیض احمد فیض.