مادرِ ملت فاطمہ جناح (پیدائش: 31 جولائی 1893ء – وفات: 9 جولائی 1967ء) تحریک پاکستان کے رہنماؤں میں سے ایک تھیں۔ وہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی چھوٹی بہن تھیں۔ اُنہیں پاکستان میں مادرِ ملت اور خاتونِ پاکستان کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ سوانح نگار، ماہر دندان ساز بھی تھیں۔ اُن کی خودنوشت سوانح ’’میرا بھائی‘‘ مشہور ہوئی۔ وہ پاکستان میں قائدِ حزبِ اِختلاف بھی رہیں اور جمہوریت کے قیام و تشکیل کے لیے کوشاں رہیں۔

اقتباساتترميم

  • جن کا ماضی مشکوک تھا، آپ اُن کے نئے نعروں اور نئے رہنماؤں سے دور رہیں اور ایسی کسی تنظیم یا آرگنائزیشن کے لئے اپنی حوصلہ افزائی یا اُس میں حصہ لینے کے لیے اور اپنی محنت و توانائی صرف (خرچ) نہ کریں اور ایسے اقدام میں ہچکچاہٹ نہ برتیں۔
    • 23 مارچ 1948ء کو کرزن ہال، ڈھاکہ میں زنانہ مسلم لیگ کے اِجلاس میں خطاب۔
  • ملت کی مشترکہ بھلائی کے لئے اعلی ترین کردار اور سالمیت کو تیار کرنا چاہئے اور تمام ذاتی عزائم کو مٹا دینا چاہئے۔
    • 1948ء، کراچی میں آل پاکستان مسلم یوتھ کنوینشن سے خطاب۔
  • عورت دنیا میں ایک انتہائی اہم مقام رکھتی ہے۔ اُس کی صلاحیتوں کے پیش نظر ، قدرت نے اسے وسیع فرائض تفویض کیے ہیں۔ اگر آپ اِن میں ناکام ہوگئے تو آپ نہ صرف اپنے نفس کو نقصان پہنچائیں گے بلکہ اپنی اجتماعی زندگی کو بھی سخت نقصان پہنچائیں گے۔
    • 1949ء، لاہور میں انجمن تحفظ حقوقِ نسواں کی مجلس سے خطاب۔
  • کوئی قوم کبھی بھی اپنے عوام کے ذہنی عمل کو غیر ملکی زبان کے جوئے سے کسی افکار اور اظہار خیال کے وسیلے کے طور پر پہلے جاری کیے بغیر مکمل فکری قد یا مقام حاصل کرنے کی امید نہیں کرسکتی ہے۔
    • 1949ء، کراچی کے اُردو ڈِگری کالج کی افتتاحی تقریب سے خطاب۔
  • بڑی کامیابیوں کے لئے بہت بڑی کاوشوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جس کے بغیر ہماری ترقی کا عمل سست پڑتا ہے۔
    • 14 اگست 1950ء، یوم آزادیٔ پاکستان کے موقع پر قوم سے خطاب۔
  • آئین ان اولین لوازمات میں سے ایک ہے جس پر ہمارا مستقبل اور پیشرفت مبنی ہے۔
    • 24 جون 1952ء، عیدالفطر کے موقع پر قوم سے خطاب۔

مزید دیکھیںترميم

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں فاطمہ جناح.