سمن پوكھریل (نیپالی: सुमन पोखरेल )پیدائش 21 ستمبر 1967ء نیپالی شاعر، نغمہ نگار، مترجم اور آرٹسٹ ہیں۔ ان کی نظمیں نیپالی میں ہیں، جو غیر ملکی زبانوں میں بھی ترجمہ ہو کر شائع ہوئی ہیں۔[1][2]

اقتباساتترميم

شاعری سے اقتباساتترميم

غزلترميم

  • قدم پے قدم یُوں مِلاتے رہے
    تیرے شان خوب ہم بڑھاتے رہے
    ہمیں رات دِن یاد آتے رہے
    جِنہیں عمر بھر ہم بھُولاتے رہے
    تجُربہ محبت نہ تھا دونو کا
    ہم دیکھتے رہے، وہ شرماتے رہے
    حقیقت میں خوشیاں ن تھی وصل کی
    تسب بُر میں اُنہے پاس لاتے رہے
    میرا ذکر جب بھی ہُوا بج م میں
    حیا سے وہ سُرخ چہرا چھُپاتے رہے
    شکست کے بعد کِیا کام نیا
    مُقدّر کو یُوں ہم جگاتے رہے
    ! دیتا رہا دِل تُم اُن کو سُمن
    جو جلاتے رہے بُجھاتے رہے

اشعارترميم

  • میں ہوں تنگ قسمت، یا تیری بد نصیبی ہے
    جانا ہے آج ہی مجھے،اور تم کل آ رہے ہو
  • اک کام تو تو نے بھی اچچھا کیا ہے سُمن
    پاگل کہلاتا اگر خورکو شا‌‏عر نۂ بنایا ہوتا
  • ھہر جاؤ، دل توڑ کر سمن کا
    کہاں جا رہے ہو، کہاں جا رہے ہو؟
  • اس آوارگی مے کہاں جاکے بھٹکتے ھم یاروں
    اگر لوگوں نے اس گاوں کو شحر نۂ بنایا ہوتا[3]


مزید دیکھیںترميم

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں سمن پوكھریل.