داستان امیر حمزہ ایک بہادر شخص حمزہ بن ازرک کی فرضیہ داستان ہے یہ پرانے اردو داستانوں میں مشہور ترین ہے اس کا تعلق مغل بادشاہ اکبر سے ہے جو داستان سننے کا رسیا تھا۔

اقتباساتترميم

راویانِ روایاتِ شیریں اور حاکیانِ حکایاتِ دل نشین، اس افسانے کو یوں حکایت کرتے ہیں کہ سرزمینِ ایران کے شہر مدائن میں ایک بادشاہ تھا، قبادکامران نام، کام دہِ مستمدانِ ناکام رعیت پروری میں اپنا نظیر اور عدالت گستری میں عدیل نہ رکھتا تھا۔ ملک میں اس کے محتاج و فقیر مثلِ عنقا بے نشاں اور زبردست اور زیردست یکساں تھے۔ چھوٹا بڑا بایکدیگر دل جوئی کرتا اور ایک دوسرے پر احسان دھرتا تھا۔ دن رات دروازے گھروں کے مثل چشمِ پاسبان کھلے رہتے تھے، کہ چور حنا تک کا آسیاے عدالت میں پیسا جاتا تھا۔ چور چوری سے بھی نام چوری کا زبان پر نہ لاتا تھا۔

مزید دیکھیےترميم

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں داستان امیر حمزہ.