خواجہ حیدر علی آتش

اردو کے مشہور شاعر

خواجہ حیدر علی آتش (پیدائش: 1764ء — وفات: 13 جنوری 1847ء) اردو زبان کے لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے ممتاز شاعر تھے۔ وہ مرزا غالب کے ہم عصر تھے۔ آتشؔ کو اردو شاعری کے دبستانِ لکھنؤ کا نمائندہ شاعر سمجھا جاتا ہے۔

اقتباساتترميم

شاعری سے اقتباساتترميم

غزلترميم

  • یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
    ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے
    پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
    زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
    مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
    کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے
    ہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہے
    سفید رنگ ہیں آخر سیاہ مو کرتے
    لٹاتے دولت دنیا کو میکدے میں ہم
    طلائی ساغر مے نقرئی سبو کرتے
    ہمیشہ میں نے گریباں کو چاک چاک کیا
    تمام عمر رفوگر رہے رفو کرتے
    جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم
    اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے
    بیاض گردن جاناں کو صبح کہتے جو ہم
    ستارۂ سحری تکمۂ گلو کرتے
    یہ کعبے سے نہیں بے وجہ نسبت رخ یار
    یہ بے سبب نہیں مردے کو قبلہ رو کرتے
    سکھاتے نالۂ شبگیر کو در اندازی
    غم فراق کا اس چرخ کو عدو کرتے
    وہ جان جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی
    دل و جگر کو کہاں تک بھلا لہو کرتے
    نہ پوچھ عالم برگشتہ طالعی آتشؔ
    برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے

اشعارترميم

  • یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے
    ہم اور بلبل بے تاب گفتگو کرتے

مزید دیکھیںترميم