امام حسن رضی اللہ عنہ (15 رمضان 3ھ تا 28 صفر 50ھ) اور علی بن ابی طالب اور حضرت فاطمۃ الزھرا رضی اللہ عنہما کے بڑے بیٹے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشہور حدیث کے مطابق آپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کا نام حسن , لقب 'مجتبیٰ' اور کنیت ابو محمد تھی .[1]

اقتباسات

ترمیم

جنگ نہیں صلح

  • اے عراق کے لوگوں! مجھے تمہارے ان اشخاص کے ساتھ کیا سلوک کرنہ چاہئے جو میرے ہمراہ ہیں؟ ۔۔۔۔مجھے" آگاہ کیا گیا ہےکہ تمہارے شرفاء تک میر معاویہ سے مل چکے ہیں۔ میرے والد کے بعد تم خود سے میرے پاس آۓ تھے اور تم نے اپنی پسند سے مجھ سے بیعت کی تھی۔ میں نے تمہاری بیعت کو قبول کیا اور معاویہ سے مقابلے کو نکل کھڑا ہوا۔۔۔۔ جو کچھ میں جھیل چکا ہوں کافی ہے۔مجھے میرے دین میں دھوکا مت دو کیونکہ میں اقتدار کو معاویہ کے حوالے کرنے جا رہا ہوں۔

"[2]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. حسن بن علی
  2. سو عظیم مسلمان، صفحہ 81