ابوالحسن خرقانی

چوتھی صدی ہجری کے مشہور صوفی بزرگ۔

ابوالحسن خرقانی (پیدائش:963ء — وفات: 5 دسمبر 1033ء) دسویں اور گیارہویں صدی عیسوی کے مسلم صوفی تھے۔

اقوالترميم

  • دنیا میں اِس سے زیادہ سخت کوئی چیز نہیں کہ تمہاری کسی کے ساتھ دشمنی ہو۔
  • بے کاری اور سستی انسان کو ہلاک کردیتی ہے۔
  • نماز اور روزہ بڑی چیزیں ہیں مگر حسد اور غرور دل سے دور کرنا ان سے بہتر ہے۔
  • علم سے زیادہ مفید یہ ہے کہ تم اُس پر عمل کرو اور سب سے اچھا علم وہ ہے جو تم پر فرض ہے۔
  • اعلانیہ گناہ پوشیدہ کی نسبت زیادہ سخت اور اظہارِ گناہ دوسرا گناہ ہے۔
  • اللہ تعالیٰ کی دوستی اس شخص کے دل میں نہیں ہوتی جس کو خلق پر شفقت نہیں۔
  • ایک لمحہ کے واسطے اللہ تعالیٰ کا ہَو رہنا خلائق زمین و آسمان کے اعمال سے بہتر ہے۔
  • صدق یہ ہے کہ دل باتیں کرے یعنی وہ بات کہے جو دل میں ہو۔
  • عالم وہ ہے جسے اپنا علم ہو، نہ کہ وہ جو اور چیزوں کا علم رکھتا ہو۔
  • سب سے بہتر وہ دل ہے جو بدی اور شر سے خالی ہو۔
  • سب سے بہترین شے وہ دل ہے جو خدا کی یاد سے معمور ہو۔
  • صدق سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ دل میں ہو، وہی زبان پر جاری ہو۔
  • جس دل میں مخلوق نہ ہو وہ دلوں میں سب سے زیادہ روشن دل ہے۔
  • جس کام میں مخلوق کا اندیشہ نہ ہو، وہ کاموں میں سب سے اچھا کام ہے۔
  • جو نعمت بصد کوشش حاصل ہو، وہ نعمتوں میں سب سے زیادہ حلال ہے۔
  • ذِکر الٰہی سے دل کی کھیتی سرسبز رہتی ہے۔
  • لالچ انسان کو اندھا بنا دیتی ہے اور ذلت و خواری کے سمندر میں دھکیل کر ہی سانس لیتی ہے۔
  • جب تک تم دنیا کے طالب رہو گے، وہ تم پر غالب رہے گی۔ جب اِس سے منہ پھیر لو گے، وہ تمہارے ماتحت ہوجائے گی۔

مزید دیکھیںترميم

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں ابوالحسن خرقانی.