ابن عربی

اندلسی صوفی، فلسفی

شیخ اکبر محی الدین محمد ابن العربی الحاتمی الطائی الاندلسی (1240ء—1165ء)، دنیائے اسلام کے ممتاز صوفی، عارف، محقق، قدوہ علماء، اور علوم كا بحر بیكنار ہیں۔ اسلامی تصوف میں آپ كو شیخ اکبر کے نام سے یاد كیا جاتا ہے اور تمام مشائخ آپ كے اس مقام پر تمكین كے قائل ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ تصوف اسلامى میں وحدت الوجود کا تصور سب سے پہلے انھوں نے ہی پیش کیا۔ ان کا قول تھا کہ باطنی نور خود رہبری کرتا ہے۔ بعض علما نے ان کے اس عقیدے کو الحاد و زندقہ سے تعبیر کیا ہے۔ مگر صوفیا انھیں شیخ الاکبر کہتے ہیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد پانچ سو کے قریب ہے۔ جن میں فصوص الحكم اور الفتوحات المکیہ (4000 صفحات) بہت مشہور ہے۔ فتوحات المكيۃ 560 ابواب پر مشتمل ہے اور کتب تصوف میں اس کا درجہ بہت بلند ہے۔

اقتباسات

ترمیم
 
گھروں میں اُن کے دروازوں سے آیا جاتا ہے اور بادشاہوں کے پاس اُن کے دربانوں کی اِجازت سے جایا جاتا ہے۔

عنقاء مغرب في معرفة ختم الأولياء وشمس المغرب

ترمیم
  • چونکہ قصد کرنے والا اُس وقت تک بیت العتیق (خانہ کعبہ) نہیں پہنچ پاتا جب تک کہ وہ ہر عمیق گھاٹی طے نہ کرلے، ہم وطنوں اور وطن سے دور نہ ہو، گھر بار اور دوست احباب نہ چھوڑے، اپنے بیوی بچوں سے جدا نہ ہو اور اِس سفر میں ہر ایک سے وحشت نہ پائے، یہاں تک کہ جب وہ میقات (مقام) پر پہنچا تو اوقات کی غلامی سے خلاصی پائی۔ لباس کی سلائی سے آزاد ہوا[1]، وہ اِس کی زیبائش سے سادگی کی جانب آیا، اور اُس کی پکار پر لبیک کہا جس نے اِسے بلایا: اور وہ بھول گیا جو اِس سے قبل اُسے یاد تھا [2]، جب کدا [3] پہنچا تو اِس پر ہدایت کا پرچم ظاہر ہوا، پھر جب حرم میں داخل ہوا ، اُس پر (حلال اشیاء بھی) حرام ہوئیں۔ اُس نے حجر اسود کو چھوا اور بوسہ دیا تو اُسے ازلی میثاق یاد آیا، جب اس نے کعبہ کا طواف کیا تو اپنی نشات کا احاطہ کیا [4]۔ اِسی طرح وہ اپنے تمام مناسک میں اپنے ہی راستوں پر چلا۔ اگر اُس نے حج کے تمام ارکان کو درست طریقے سے اداء کیا اور اِس حج کے مقصد کو پایا، تو یہ وہ حاجی ہے جسے مبارکباد دی جاتی ہے۔
    • عنقا ء مغرب، صفحہ 83۔
  • اے بھائی! اِس راہ پر چل (یعنی راہِ ہدایت پر)، اور ساتھی (معبود) کو پکارتا رہ، یہاں تک کہ تو بغیر کسی جدائی کے اُس سے ملے اور بغیر ملاپ کے اُس سے جدا ہو۔ اور تیرے سائے صبح شام اُس سبحانہ کے سامنے سجدہ ریز رہیں۔
    • عنقاء مغرب، صفحہ 89۔
  • گھروں میں اُن کے دروازوں سے آیا جاتا ہے اور بادشاہوں کے پاس اُن کے دربانوں کی اِجازت سے جایا جاتا ہے۔
    • عنقاء مغرب، صفحہ 97۔

کتابیات

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں ابن عربی.
  1. یعنی احرام، جو عمرہ کے لئے لازمی ہے، عمرہ کی ادائیگی کے لے سلائی والا لباس ممنوع ہے۔
  2. یعنی اَلَست بربکم کا عہد بھول گیا۔
  3. کداء، مکہ مکرمہ سے قبل ایک بلند مقام ہے جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوا کرتے تھے۔
  4. یعنی اپنے قلب کا طواف کیا اور اپنی حقیقت کو جانا۔