"محمد صلی اللہ علیہ وسلم" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
==[[w:حدیث قدسی|حدیث قدسی]]==
* اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اس منفرد حدیث کے الفاظ آپ {{درود}} خود ادا فرماتے ہیں مگران کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرما دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں احادیث قدسیہ کہا جاتا ہے۔ مثلاً آپ {{درود}} فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
'''یَاعِبَادِیْ إِنِّی حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَی نَفْسِیْ وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّماً فَلاَ تَظَالَمُوْا'''۔ الحدیث۔<ref>( مسلم : ۲۵۷۷)</ref> اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر دیا ہے اور تمہارے درمیان بھی۔ لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا۔
 
1,874

ترامیم